مولانا ڈاکٹر قاسم محمود کے خلوص کی شمع

تصور کیجیے کہ چاروں طرف فلک بوس پہاڑ ایستادہ ہیں، جن کی چوٹیوں پر برف کی سفید دستاریں سجی ہوئی ہیں۔ پہاڑوں کے دامن اور وادیاں بھی برف کی دبیز چادر میں لپٹی ہوئی ہیں۔ ہر سمت زندگی کا نظام سست بلکہ معطل دکھائی دیتا ہے اور کاروبارِ حیات جیسے منجمد ہو کر رہ گیا ہو۔ لوگ گھروں تک محدود ہیں، سردی کی شدت سے بچنے کے لیے آگ تاپتے اور کسی نہ کسی طرح خود کو اور اپنے بچوں کو گرم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
ایسے کڑے اور شدید سرد ماحول میں تحصیل الائی کے ایک دور افتادہ پہاڑی مقام ڈنہ میں شفیقُ الامہ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ کے قائم کردہ تعلیمی ادارے غیر معمولی سرگرمی اور استقامت کے ساتھ اپنے عظیم مقصد کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ مقصد قوم کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا اور انہیں زندگی کا بہتر شعور عطا کرنا ہے۔ سخت سردی کے باوجود یہ ادارے پورے جوش، خلوص اور جذبے کے ساتھ اپنا تعلیمی مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان اداروں میں سینکڑوں معصوم بچے، جن کی ایک بڑی تعداد وہیں مقیم ہے، دن رات حصولِ علم و شعور میں مشغول ہیں۔ ان کے اساتذہ پوری دلجمعی اور محنت کے ساتھ درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، جبکہ نگران حضرات انتہائی یکسوئی اور خلوص کے ساتھ ان بچوں کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس مردِ درویش کے دردِ دل، شبانہ روز کی فکر مندی اور بے لوث جذبۂ خدمت کا ثمر ہے جو کراچی میں بیٹھ کر بھی ان دور دراز پہاڑوں میں علم کے چراغ روشن کرنے کیلئے ہمہ تن فکر و عمل میں جتے ہوئے ہیں، وہ مرد درویش مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ ہیں، جن کی زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا، زندگیوں میں روشنی پیدا کرنا اور قوم کے بچوں کو علم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔
آج حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ کے قائم کردہ مدرسہ قاسم العلوم ڈنہ پاشتو میں حفظ و ناظرہ کے امتحانی جائزے کے لیے کوڑاوں سید آباد سے قاری سیف الاسلام صاحب اور کہو سے مولانا انوار اللہ صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے دور دراز کا سفر طے کر کے یہاں کے تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، اساتذہ کی محنت اور طلبہ کے شوقِ علم کو قریب سے دیکھا، خلوص اور لگن کی جھلک ہر در و دیوار پر محسوس کی اور دعائیں دے کر رخصت ہوئے۔ سالانہ امتحان کے بعد ان شاء اللہ ایک ہفتے کی تعطیلات ہوں گی، جس کے بعد یہ بچے نئے عزم اور تازہ جذبے کے ساتھ دوبارہ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کریں گے۔
یہ سب کراچی میں بیٹھے حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ کے خلوص کا آئنہ دار ہے۔ انہیں جیسے حضرات کے متعلق اقبال نے فرمایا تھا:
ہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ
اللہ سبحانہ و تعالیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ کی ان علمی، دینی اور سماجی خدمات کو علاقے کی تعلیمی و سماجی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور آبادی کا ذریعہ بنائے اور اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت
عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply